ہمارا نیا نصاب اور ہمارے معاشرتی مسائل

 ہمارا نیا نصاب اور ہمارے معاشرتی مسائل

حکومتِ پاکستان نے نیا نصاب تیار کر لیا ہے، اگرچہ اس کے مطابق درسی کتب ابھی تک  تیار نہیں ہوئیں۔ کسی بھی ملک کا نصاب محض چند مضامین اور اسباق کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ دراصل اس ملک کے شہریوں کی فکری، اخلاقی اور عملی تربیت کا ایک اہم ذریعہ ہوتا ہے۔ ایک مؤثر نصاب میں معاشرتی، معاشی، نفسیاتی اور اخلاقی مسائل کے حل کے لیے رہنمائی موجود ہونی چاہیے اور ساتھ ہی طلبہ کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی تیار کیا جانا چاہیے۔


بدقسمتی سے ہمارے جیسے معاشروں میں نصاب کی تشکیل بعض اوقات اندرونی اور بین الاقوامی طاقتور اداروں کے دباؤ اور اثرات سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتاً ایسے موضوعات بھی نصاب کا حصہ بن جاتے ہیں جن کا ہمارے معاشرتی اقدار سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا یا جو ہماری حقیقی تعلیمی ضروریات اور ترجیحات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ تدریسی وقت اور اساتذہ کی توانائی ایسے موضوعات پر صرف ہو جاتی ہے جو ہمارے بنیادی معاشرتی مسائل کے حل میں زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوتے۔


دوسری طرف ہمارے حقیقی اور سنگین مسائل، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی، جذباتی، جسمانی اور نفسیاتی صحت، کے حوالے سے نصاب میں مواد انتہائی کم دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کے حوالے سے مختلف مسائل بڑھ رہے ہیں؛ تشدد کی طرف رجحان، قتل و جرائم کے واقعات، منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال، خودکشی کے واقعات، اساتذہ اور بڑوں کے ساتھ بدتمیزی، فحاشی کی طرف بڑھتا ہوا رجحان، مطالعے اور علم سے دوری اور باہمی احترام میں کمی جیسے مسائل ہماری سنجیدہ توجہ کے متقاضی ہیں۔


ایسے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارا نصاب ہمارے حقیقی معاشرتی مسائل کو سامنے رکھ کر تشکیل دیا جائے۔ ذہنی اور جذباتی صحت، جسمانی صحت، مثبت رویوں کی تشکیل، کمیونیکیشن اسکلز، تنازعات کے پُرامن حل، اخلاقی تربیت، زندگی کی مہارتوں، ذمہ دار شہریت اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے جیسے موضوعات کو نصاب میں مناسب اہمیت دی جانی چاہیے۔ بچوں کو صرف امتحانات کے لیے نہیں بلکہ ایک بہتر زندگی اور ذمہ دار شہری بننے کے لیے بھی تیار کرنا ضروری ہے۔


ایک اور اہم مسئلہ نصاب سازی کے عمل کا ہے۔ عموماً نیا نصاب محدود وقت میں تیار کر دیا جاتا ہے، جبکہ اس کے لیے جس وسیع تحقیق، مشاورت، تجرباتی مرحلے اور شواہد پر مبنی جائزے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہمیشہ مطلوبہ سطح پر نہیں ہو پاتا۔ اگر نصاب سازی کی کمیٹیوں میں سفارش یا تعلق کی بنیاد پر افراد شامل ہوں اور ماہرینِ تعلیم، اساتذہ، ماہرینِ نفسیات، سماجی علوم کے ماہرین، والدین اور عملی میدان سے وابستہ افراد کی مؤثر نمائندگی نہ ہو تو نصاب کا معیار متاثر ہونا فطری ہے۔


اس لیے ضروری ہے کہ نصاب سازی کو ایک مسلسل، تحقیقی اور مشاورتی عمل بنایا جائے۔ نصاب صرف یہ دیکھ کر نہ بنایا جائے کہ دنیا میں کیا پڑھایا جا رہا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ ہماری نئی نسل کو کن مسائل کا سامنا ہے، ہمارے معاشرے کی حقیقی ضروریات کیا ہیں اور آنے والے برسوں میں ہمارے بچوں کو کن صلاحیتوں کی ضرورت ہوگی۔


اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کو بھی صرف سرکاری نصاب اور درسی کتب تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ انہیں اپنے علاقے کے مخصوص معاشرتی، ثقافتی اور تعلیمی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا نصاب  تیار کرنے کی طرف بھی قدم بڑھانا چاہیے۔ اس میں ذہنی و جذباتی صحت، کردار سازی، والدین سے تعلق، کمیونیکیشن، زندگی کی مہارتیں، مطالعے کی عادت، شہری ذمہ داری اور مقامی معاشرتی مسائل جیسے موضوعات شامل کیے جا سکتے ہیں۔


امید ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے اس ضرورت کو محسوس کریں گے اور اپنے حصے کا کردار ادا کریں گے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو درپیش حقیقی مسائل کو سمجھ کر تعلیم کے ذریعے ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں تو شاید ہم اپنے معاشرے کو درپیش مسائل کے حل کی طرف ایک عملی قدم اٹھا سکیں۔احمدیار

#Ahmadyar #Curriculum2026

Comments