کلاس روم: امتحانی پرچے کی تیاری یا زندگی کی تیاری

 


سیکھنے کا عمل ہر وقت جاری رہتا ہے۔ چاہے بچہ کلاس روم میں ہو، میدانِ بازی میں ہو، مدرسے میں ہو، حجرے میں ہو یا گھر میں — یہ عمل کبھی نہیں رکتا۔

یہ عمل صرف تعلیمی ادارے کے کلاس روم تک محدود نہیں ہے۔ ہاں، کلاس روم کچھ خاص معلومات یا مہارتوں کو شعوری طور پر ایک مخصوص نصاب کے ذریعے پڑھانے کی جگہ ضرور ہے۔ نصاب اور پڑھانے کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے کہ بچہ اپنی زندگی کے مسائل خود حل کر سکے۔ ہمیں موضوعات کو اپنے معاشرتی مسائل سے جوڑنا چاہیے۔ کوشش ہونی چاہیے کہ ہر موضوع زندگی کے حوالے سے کچھ نہ کچھ رہنمائی فراہم کرے اور کوئی نہ کوئی معاشرتی، نفسیاتی یا صحت کا مسئلہ حل کر رہا ہو۔


کلاس روم صرف امتحان کی تیاری کی جگہ نہیں، بلکہ اچھی اور معیاری زندگی کی تیاری کی جگہ ہے۔ بس یہ سبق نصاب سازوں، معلمین اور اسکول و مدرسہ کے سربراہان کو سمجھنا چاہیے۔

کیا ہمارے کلاس رومز میں زندگی کی تیاری ہوتی ہے یا صرف امتحانات کی؟ اپنی رائے سے ہم سب کو آگاہ کریں۔

تحریر: احمدیار

Comments