میٹرک کے حالیہ نتائج: روایتی نظام کی ناکامی یا اصلاحات کا نتیجہ؟
تحریر:احمدیار
حالیہ صوبائی بورڈز کے میٹرک نتائج میں طلبہ کی بڑی تعداد میں ناکامی نے ایک نئے بحران اور بحث کو جنم دیا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر طلبہ کا ناکام ہونا ان کی نالائقی نہیں، بلکہ ہمارے تعلیمی اور امتحانی نظام کی گہری خرابیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ حکومتی ایوانوں اور تعلیمی حلقوں میں اس پر بحث تو جاری ہے، لیکن فی الحال کوئی حتمی حل سامنے نہیں آ سکا۔
اصل سوال یہ ہے کہ مسئلہ کہاں ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے حال ہی میں کچھ اہم امتحانی اصلاحات کی ہیں، مثلاً:
SLO (Student Learning Outcomes): حاصلاتِ تعلم کی بنیاد پر پرچوں کی تیاری
کلسٹر بیسڈ امتحانی مراکز: شفافیت یقینی بنانے کا اقدام
TOS (Table of Specifications) اور روبِرکس (Rubrics): پرچے کا متوازن فریم ورک
امتحانی مراکز میں سی سی ٹی وی کیمرے: نقل کی روک تھام
آن اسکرین مارکنگ: پیپرز کی غیر جانبدارانہ اور تیز رفتار جانچ
بلا شبہ یہ تمام تبدیلیاں قابلِ ستائش ہیں اور انہیں برقرار رہنا چاہیے، اگرچہ مختلف طبقوں کی جانب سے ان پر تنقید بھی ہو رہی ہے۔ ان اصلاحات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس نے ماضی کے نقل مافیا، رٹا سسٹم اور ہمارے کمزور تدریسی نظام کو بے نقاب کر دیا ہے۔
بنیادی کمزوریاں اور ناکامی کے اسباب
جن وجوہات کی بنا پر اتنے بڑے پیمانے پر بچے ناکام ہوئے، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
کتابی حد بندی اور نصابی مقاصد سے ناآشنائی: اسکولوں میں اساتذہ صرف درسی کتب تک محدود ہیں۔ وہ حکومتی نصاب کے حقیقی مقاصد اور اسپرٹ سے ناواقف ہیں۔
رٹا سسٹم کا تسلسل: بیشتر اسکولوں میں اب بھی کتاب کی مشقوں کے سوالات یاد کروانے اور رٹا لگوانے پر زور دیا جاتا ہے، جبکہ امتحانی پرچے نصاب میں دیے گئے "حاصلاتِ تعلم" (SLOs) کی بنیاد پر تیار کیے جا رہے ہیں۔
بلومز ٹیکسونومی (Bloom's Taxonomy) کا فقدان: اسکولوں نے اپنے اساتذہ کو بلومز ٹیکسونومی کے مطابق پڑھانے کی تربیت نہیں دی، حالانکہ اب امتحانی سوالات سوچنے اور سمجھنے کے مختلف درجوں (Cognitive Levels) سے اٹھائے جاتے ہیں۔
ٹی او ایس (TOS) سے بے خبری: حکومت نے امتحانی رہنمائی کے لیے TOS بنا کر ویب سائٹ پر اپ لوڈ تو کر دیا، لیکن اکثر اسکول اس سے ناواقف ہیں۔ جن کو معلوم ہے، وہاں اساتذہ کو اس کی صحیح سمجھ نہیں۔ اس کے علاوہ، اسکولوں نے اپنا اندرونی امتحانی نظام اس کے مطابق نہیں ڈھالا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ TOS اور روبِرکس کی سمجھ طلبہ کو بھی ہونی چاہیے۔
نجی اداروں کی عدم آلاہی: حکومت نصاب سازی، اسسمنٹ فریم ورک اور دیگر اصلاحات تو کرتی ہے لیکن ان کی آگاہی اور تربیت کا کوئی مؤثر نظام نہیں بناتی، بالخصوص نجی تعلیمی اداروں (Private Schools) کے لیے۔ سرکاری اسکولوں کے سربراہان کو کچھ نہ کچھ آگاہی دی جاتی ہے، مگر عدم دلچسپی کی وجہ سے وہ معلومات اساتذہ اور طلبہ تک نہیں پہنچ پاتی۔
خیبر پختونخوا میں نصابی تعطل: ملک کے دیگر حصوں میں نیا نصاب اور اس کے مطابق کتب نافذ ہو چکی ہیں اور امتحانات بھی اسی کے مطابق ہو رہے ہیں۔ لیکن خیبر پختونخوا میں ابھی تک نئے نصاب پر مبنی کتب تیار نہیں ہو سکیں، جس کی وجہ سے امتحانات پرانے نصاب پر ہو رہے ہیں۔ پرانے نصاب کے SLOs میں کئی نقائص ہیں، جن کی موجودگی میں ۱۰۰ فیصد SLO پر مبنی امتحان لینا ناممکن ہے۔
انتظامی عدم استحکام: تعلیمی بورڈز کے سربراہان (چیئرمین، کنٹرولر) کا جلدی جلدی تبادلہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ان کی تربیت پر بھاری سرکاری وسائل خرچ ہوتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ نظام کو سمجھ کر اصلاحات کے قابل ہوتے ہیں، ان کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے یا ان کی مدت ختم ہو جاتی ہے۔ اکثر یہ تبادلے سیاسی بنیادوں پر ہوتے ہیں اور میرٹ کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
وسائل کی عدم دستیابی: بہت سے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ اور کمروں کی کمی کی وجہ سے بچوں کی تعداد بین الاقوامی معیار سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اتنی بڑی تعداد کو پڑھانا انتہائی دشوار ہوتا ہے، جس کے باعث بچوں کے لیے امتحان میں کامیابی حاصل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے اسکولوں میں لیبارٹریز بھی دستیاب نہیں ہیں، جس کی وجہ سے سائنس کی تدریس عمل کے بغیر رہ جاتی (یا عملی نہیں ہو پاتی) ہے۔
حاصلِ بحث اور تجاویز
نیا نصاب اور فریم ورک: حکومت کو چاہیے کہ جلد از جلد نئے نصاب کے مطابق امتحانات کا انعقاد یقینی بنائے۔ نئے نصاب پر مبنی "اسسمنٹ فریم ورک" تیار کر کے سرکاری و نجی اسکولوں کے اساتذہ اور سربراہان کو اس پر جامع تربیت دی جائے۔
اساتذہ کی تربیت: تعلیمی ادارے اپنے اساتذہ اور امتحانی عملے کو بلومز ٹیکسونومی، SLO بیسڈ تدریس اور TOS کے استعمال پر عملی تربیت دیں۔
ابتدائی کلاسوں سے اصلاحات: امتحانات کا نیا نظام یکلخت دسویں کلاس میں نافذ کرنے کے بجائے ابتدائی/نچلی کلاسوں سے شروع کیا جائے۔
بورڈز کے انتظامی امور کی استواری: بورڈ کے نئے ذمہ داران کو عہدہ سنبھالتے ہی بنیادی تربیت دی جائے، اور اچھا کام کرنے والوں کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی جائے۔ نئے اور پرانے ذمہ داران کے درمیان کچھ عرصے کا مشترکہ ورکنگ پیریڈ مقرر کیا جائے تاکہ اصلاحات کا تسلسل برقرار رہے۔
طویل المیعاد پالیسی: امتحانی اور جائزاتی نظام کے لیے طویل المیعاد منصوبہ بندی کی جائے تاکہ وزراء یا سیکرٹریز کی تبدیلی سے پالیسیاں متاثر نہ ہوں۔
اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت: کوئی بھی تعلیمی اصلاحات یا منصوبہ بنانے سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز (اساتذہ، اسکول مالکان، اور تعلیمی ماہرین) کو اعتماد میں لیا جائے۔
نمبروں پر مبنی پوزیشن کا خاتمہ: موجودہ نمبروں کی بنیاد پر ٹاپ پوزیشن دینے کا روایتی نظام ختم کیا جائے اور گریڈنگ سسٹم کو فروغ دیا جائے۔
ریسرچ اور شفافیت: تعلیمی بورڈز میں تحقیق (Research & Development) کا شعبہ فعال کیا جائے، جدید ٹیکنالوجی اپنائی جائے، اور امتحانی مافیا کی نشاندہی کر کے فوری سخت کارروائی کی جائے۔
امتحانی ڈیوٹی اور پیپر چیکنگ: امتحانی عملے کی تعیناتی اور پرچوں کی جانچ کے نظام کو مکمل طور پر شفاف اور میرٹ پر مبنی بنایا جائے۔
اساتذہ کی بھرتی اور متوازن تقسیم: سرکاری سکولوں میں خالی اسامیوں پر فوری شفاف بھرتی کی جائے اور اساتذہ کو ضرورت کے مطابق اسکولوں میں تقسیم (Rationalization) کیا جائے۔۔
سائنس کٹس کی فراہمی: مستقل لیب نہ ہونے کی صورت میں پورٹیبل سائنس کٹس (Science Kits) کے ذریعے عملی تدریس ممکن بنائی جائے۔
تعلیمی بجٹ میں اضافہ: تعلیم کا بجٹ بڑھا کر اس کا بڑا حصہ اسکولوں کی سہولیات اور معیار کو بہتر کرنے پر خرچ کیا جائے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف حکومتی پالیسیوں، انتظامی ڈھانچے اور امتحانی بورڈز کے مسائل کی نشاندہی پر مبنی ہے۔ اس معاملے میں والدین، طالب علموں اور اساتذہ کے کردار اور ان سے متعلقہ مسائل کا احاطہ کسی اور مضمون میں کیا جائے

Exactly sir this article is truly indicating towards the key point. I think we ( teachers stake holders) deliver our services like a driving master who convert the skil of driving (staring) to someone only and then at the day of driving test we asked the driver that what is the function of timing built, piston timing chain, and also ask about that how or from where the current generated. And differentiate the torch and speed also.
ReplyDelete